ویب ڈیسک: بھارت کی ایک زیریں عدالت نے جنسی ہراسمنٹ کے سنگین مقدمات میں ملوث بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور امیدوار برائے لوک سبھا برج بھوشن کی ضمانت قبول کر لی ہے۔
برج بھوشن اور اس کے شریک ملزم بھارت کی ریسلنگ فیڈریشن کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری نے دہلی کی ایک زیریں عدالت سے دو دن پہلے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی تھی ، آج عدالت نے معمولی رقم کے ذاتی مچلکوں کے عوض دونوں ملزموں کی ضمانت قبول کرتے ہوئے یہ شرائط عائد کیں کہ برج بھوشن عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ملک نہیں چھوڑے گا۔
برج بھوشن شرن سنگھ پر بھارت کی چھ قومی سریسلر لڑکیوں نے پولیس میں مقدمات درج کروا رکھے ہیں جن میں اس پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ ان مقدمات کی تفتیش کو کئی ہفتوں تک لٹکائے رکھنے کے بعد رائے عامہ کے دباو پر پولیس نے برج بھوشن سنگھ کے خلاف نسبتاً کمزور چالان عدالت میں پیش کر رکھا ہے۔ ریسلر لڑکیوں کے مسلسل احتجاج اورر رائے عامہ کے دباو کے بعد بھارت کی حکومت نے برج بھوشن سنگھ کو بھارت کی ریسلنگ فیڈریشن کی صدارت سے تو نکال دیا لیکن اب وہ اتر پردیش کے ایک حلقہ سے لوک سبھا کا الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہا ہے جس کے لئے اسے ہر صورت میں گرفتاری سے بچنے کی ضرورت تھی۔